Tuesday, August 21, 2012

اور قضا آچکی تھی

"!اس نے کفر کیا ہے"
کف اڑاتے مولوی نے فتویٰ دے دیا۔
یہ سنتے ہی بے قابو ہجوم پریشان کھڑے شخص پر پل پڑا۔
نفرت بلند آہنگ قہقہے لگانے لگی۔
جہالت آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہی تھی۔
دور کھڑی انسانیت نے روتے روتے منہ چھپا لیا۔
اتنے میں قاضی بھی ہانپتا کانپتا آن پہنچا۔
لیکن تب تک قضا آ چکی تھی۔
مولوی نے مسکراتے ہوئے حلوے کی پلیٹ آگے بڑھائی اور پوچھا
"کچھ میٹھا ہو جائے؟"

No comments:

Post a Comment